زیتون کادرخت طبی خصوصیات کے باعث قدیم زمانے سے مشہور

zetoon

زیتون کادرخت طبی خصوصیات کے باعث قدیم زمانے سے مشہور

زیتون کادرخت طبی خصوصیات کے باعث قدیم زمانے سے مشہور

زیتون کادرخت طبی خصوصیات کے باعث قدیم زمانے سے مشہور ہے۔ یہ ترکی، اٹلی، شمالی، افریقہ کیلی فورنیا، میکسیکو، اسپین، یونان اور آسٹریلیا میں ہوتا ہے۔ زیتون کادرخت تین میٹرتک اونچا ہوتا ہے۔ اس کے درخت میں پیرکی شکل کاایک پھل لگتا ہے۔ یہ پھل غذائیت سے بھرپور ہوتا ہے۔ اس کا ذائقہ کسیلا ہوتا ہے۔ جب پھل پک جاتا ہے تو اس سے زیتون کا تیل نکالا جاتا ہے۔

کچے پھل میں تیل کی مقدار زیادہ نہیں ہوتی۔ تیل نکالنے سے پہلے زیتون کے پھلوں کوخوب صاف کیاجاتا ہے۔ پھران کے چھلکے اتارے جاتے ہیں۔ چھلکے اتار نے کے بعد پھلوں کومشین میں ڈال کرتیل نکال لیاجاتا ہے۔ یہ بہت صاف ستھرا اور بہترین تیل کہلاتا ہے۔ اسے ایکسٹراورجن آئل Extra Virgin Oilکہا جاتا ہے۔ اس تیل کا رنگ سنہری ہوتا ہے۔ یہ خوشبودار ہوتا ہے۔ یہ تیل بہت عرصے تک خراب نہیں ہوتا۔
زیتون کاتیل نہ صرف کھایا جاتا ہے، بلکہ مالش کے کام بھی آتا ہے۔ یہ دونوں صورتوں میں فائدہ مند ہے۔ یہ تیل بواسیر دور کرنے میں مدد دیتا ہے۔ کوڑھ کامرض دورکرنے میں فائدہ مند ثابت ہوا ہے۔ زیتون کے تیل میں نمک ملاکر اگر مسوڑوں پرلگایا جائے تو ان میں مضبوطی پیدا ہوجاتی ہے۔ پیٹ کے کیڑے خارج کرنے میں مفید ہے۔ بالوں کے لیے بھی فائدہ مند ہے۔ اس تیل کواگر روزانہ بالوں میں لگایا جائے تو بال سفید ہونا اور گرنا بند ہوجاتے ہیں۔
زیتون کے پھلوں کااچار بھی ڈالا جاتا ہے۔یورپ میں اس کا اچار بہت شوق سے کھایا جاتا ہے۔ یہ اچار بھوک بڑھاتا ہے۔ اعضاپر زیتون کے تیل کی مالش کرنے سے ان میں طاقت اور مضبوطی پیدا ہوجاتی ہے۔ زیتون کاتیل پیچش کو بھی دور کرتا ہے۔ گردے کی پتھری توڑنے کے لیے بھی یہ تیل مئوثر ہے۔ یہ پیشاب لاتا ہے۔ جسم کی کمزوری دور کرتا ہے۔ آنتوں کی جلن کو ختم کرتا ہے۔ تحقیق سے پتا چلا ہے کہ وہ افراد جو ہفتے میں سات چمچے زیتون کاتیل کھاتے ہیں، ان کی آدھی بیماریاں ختم ہوجاتی ہیں۔
صحت کے ماہرین کہتے ہیں کہ زیتون کا تیل فالج، عرق النسا (لنگڑی کادرد)اور پٹھوں اور جوڑوں کے درد کو دور کرنے میں لاجواب ہے۔ لاغر بچوں اور بوڑھوں کی اس تیل سے مالش کرنی چاہیے۔ بچوں کو اگر سردی لگ جائے تو زیتون کے تیل سے صبح شام مالش کرنا مفید ہوتا ہے۔ تبخیر معدہ کے لیے بھی زیتون کا تیل فائدہ مند ہے۔ نزلہ زکام دور کرتا ہے۔ زیتون کے تیل کوگھی کی جگہ استعمال کیاجاسکتا ہے۔ ناشتے میں گرم گرم روٹی پر لگاکر کھایا جاسکتا ہے۔
زیتون کے درخت کی پتیاں بھی مفید ہیں۔ قدیم مصر اور یونان کے لوگ اس درخت کی پتیوں کو زخم صاف کرنے کے لیے استعمال کرتے تھے۔ زیتون کے درخت کی پتیاں جراثیم، پھپوندی اور ورم کودورکرتی ہیں۔ ان پتیوں میں طاقت ورمانع تکسید اجزا Antioxidantasپائے جاتے ہیں۔ زیتون کی پتیوں کا عرق خراب کولیسٹرول (ایل ڈی ایل کو ختم کرتا اوربندشریانوں کوکھالتا ہے، اسی لیے دل کے لیے مفید ہے۔