دنیا کا واحد دریا جس کا پانی ابلتا رہتا ہے، وجہ ایسی کہ جان کر آپ بھی قدرت پر دنگ رہ جائیں گے

boiling river

دنیا کا واحد دریا جس کا پانی ابلتا رہتا ہے، ایسا کیسے ممکن ہے؟ وجہ ایسی کہ جان کر آپ بھی قدرت پر دنگ رہ جائیں گے

دنیا کا واحد دریا جس کا پانی ابلتا رہتا ہے، وجہ ایسی کہ جان کر آپ بھی قدرت پر دنگ رہ جائیں گے

لیما (نیوز ڈیسک) براعظم جنوبی امریکا میں لاکھوں مربع میل پر پھیلے ہوئے ایمزون جنگلات کے بارے میں بے شمار پراسرار کہانیاں مشہور ہیں لیکن ”ابلتے پانی والے دریا“ کی کہانی ان میں سے پراسرار ترین قرار دی جا سکتی ہے۔ لاطینی امریکا کے ممالک میں قدیم دور سے ہی ”مایانتوساﺅ“ نامی دریا کا زکر زبان زدعام رہا ہے، لیکن سائنسدان ہمیشہ اسے ناممکن قرار دے کر رد کرتے آئے تھے۔ اب پہلی دفعہ جیو فزکس کے ایک ماہر نے اس دریا کو اپنی آنکھوں سے دیکھنے کے بعد اس ناقابل یقین کہانی کو حقیقت قرار دے دیا ہے۔
سائنسدان اینڈرس روزو کا کہنا ہے کہ انہوں نے پہلی دفعہ اس دریا کا زکر اپنے دادا سے سنا تھا۔ وہ کہتے ہیں کہ جب 2011ءمیں ان کی خالہ نے بھی انہیں یہی کہانی سنائی تو وہ اس کے بارے میں مزید متجسس ہوگئے۔ کیونکہ وہ سائنس کے طالبعلم تھے لہٰذا اس بات پر یقین کرنے کو تیار نہ تھے، لیکن ان کی خالہ نے بتایا کہ وہ اس دریا کو دیکھ چکی ہیں۔ اینڈرس روزو نے اس معاملے کی تخلیق کا فیصلہ کیا اور اپنی خالہ کی رہنمائی میں پیرو چلے گئے، جہاں سے وہ ایمزون کی گہرائیوں کی طرف روانہ ہوئے۔

اینڈرس روزو نے حال ہی میں ایک ٹی وی شو میں بتایا کہ جب انہوں نے اس دریا کو پہلی دفعہ اپنی آنکھوں سے دیکھا تو ان کا منہ حیرت سے کھلا رہ گیا۔ وہ کہتے ہیں کہ اس کا پانی شدید گرم تھا، اتنا گرم کہ اس میں نصف سیکنڈ کے ہاتھ ڈالیں تو جھلس جائے۔ پانی ابلتا ہوا دیکھا جا سکتا ہے، جبکہ اس کے اوپر بھاپ کے گھنے بادل جمع رہتے ہیں۔
اینڈرس روزو نے ابلتے پانی والے دریا کے متعلق کئی خوفناک باتیں بتائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے کئی جانوروں کو دریا میں گرتے دیکھا، جن کے جسم شدید گرم پانی میں ابل گئے۔ انہوں نے بتایا کہ جب کوئی جانور دریا میں گرتا ہے تو اپنی زندگی بچانے کے لئے بہت کوشش کرتا ہے مگر ابلتا ہوا دریا اس کے لئے موت کا پیغام بن جاتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ پانی میں گرنے والے جانوروں کی آنکھیں سب سے پہلے ابل کر سفید پڑجاتی ہیں اور اس کے بعد آہستہ آہستہ جسم کا تمام گوشت گل کر ہڈیوں سے علیحدہ ہو جاتا ہے۔

اینڈرس روزو نے بتایا کہ یہ حیران کن بات ہے کہ ایمزون کے آشا ننکا علاقے میں کوئی آتش فشاں نہیں ہے لیکن اس کے باوجود مایانتوساﺅ دریا ابلتا رہتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ دراصل اس دریا کے نیچے ارضی درارڑیں موجود ہیں جن سے خارج ہونے والی شدید حرارت دریا کے پانی کو ابال رہی ہے۔ عرضی دراڑوں کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ جس طرح ہمارے جسم میں خون کی رگیں موجود ہیں اسی طرح زمین کے اندر گرم پانی کی ’رگیں‘ ہیں، اور جب ان میں سے کوئی ’رگ‘ کسی ارضی دراڑ سے باہر آ جاتی ہے توبے انتہا گرم پانی زمین سے چھلکنا شروع ہو جاتا ہے۔ مایانتو ساﺅ دریا کے ابلنے کی بھی یہی وجہ ہے۔