ایک گھریلو ملازمہ نے سپرماڈلز کو کیسے پیچھے چھوڑ دیا؟

super model

ایک گھریلو ملازمہ نے سپرماڈلز کو کیسے پیچھے چھوڑ دیا؟

ایک گھریلو ملازمہ نے سپرماڈلز کو کیسے پیچھے چھوڑ دیا؟

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) فیشن ڈیزائنر اپنے ملبوسات کی نمائش کے لیے بھاری رقوم کے عوض سپرماڈلز کی خدمات حاصل کرتے ہیں اور ان کی خوبصورتی کو اپنے برانڈ کی تشہیر کا سامان بناتے ہیں لیکن بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں ایک فیشن ڈیزائنر نے اس رحجان کو یکسر فراموش کرتے ہوئے ایک ایسی لڑکی کو اپنے ملبوسات کی ماڈلنگ کے لیے منتخب کر لیا ہے جس کے متعلق کوئی اور فیشن ڈیزائنرسوچ بھی نہیں سکتاتھا۔

خاتون فیشن ڈیزائنر مندیپ ناگی اپنے تیارکردہ نئے ملبوسات کی نمائش کے لیے نئے چہرے کی تلاش میں تھی۔ ایک روز وہ اپنے گھر سے نکل رہی تھی کہ اس کے نظر اپنے ہمسایوں کے گھر میں کام کرنے والی نوکرانی پر پڑی، جسے دیکھتے ہیں مندیپ نے اسے اپنے ملبوسات کی ماڈلنگ کے لیے پسند کر لیا۔

اس نوکرانی کا نام کملا(فرضی نام) تھا جو لوگوں کے گھروں میں کام کرکے اپنے خاندان کو پال رہی تھی۔ کملا اگرچہ سانولی رنگت کی لڑکی تھی لیکن اس کی آنکھیں مندیپ کو پسند آئیں اور اس نے اسے ماڈلنگ میں چانس دینے کا فیصلہ کر لیا۔ جب فوٹو شوٹ کروایا گیا اور وہ شائع ہوا تو حیران کن نتائج سامنے آئے۔ لوگوں کی طرف سے کملا کو کسی سپرماڈلز سے بھی زیادہ پذیرائی ملی۔

بھارت کے ایک اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے مندیپ کا کہنا تھا کہ ’’کملا کو جب میں نے ماڈلنگ کی پیش کش کی تو پہلے تو وہ بہت ہچکچائی لیکن پھر اس نے حامی بھر لی۔ کیمرے کے سامنے آنا بھی اس کے لیے بہت مشکل مرحلہ تھا، اسے بہت کچھ بتانا اور سکھانا پڑا، لیکن اس کی ماڈلنگ کی تصاویر شائع ہونے پر جو نتائج سامنے آئے وہ ہماری توقعات سے کہیں بڑھ کر تھے۔