دنیا کا وہ جنگل جہاں خواتین کا راج چلتا ہے

دنیا کا وہ جنگل جہاں خواتین کا راج چلتا ہے

دنیا کا وہ جنگل جہاں خواتین کا راج چلتا ہے

دنیا کا وہ جنگل جہاں خواتین کا راج چلتا ہے

وگوٹا(مانیٹرنگ ڈیسک)جنوبی امریکہ کے ملک کولمبیا میں طویل عرصے سے حکومت اور باغیوں میں لڑائی جاری ہے۔ کولمبیا کے یہ باغی فارک کہلاتے ہیں اور اپنے خفیہ رہنے اور طویل جنگ لڑنے کی صلاحیت کے باعث مشہور ہیں۔ ان باغیوں میں ایک واضح تعداد ”گوریلا“ خواتین کی بھی ہے۔ یہ کولمبیا کے جنگلوں میں رہتی ہیں جہاں انہوں نے اپنے کیمپ بنا رکھے ہیں اور ان کیمپوں میں ان گوریلا خواتین ہی کی حکمرانی چلتی ہے۔

 

دنیا کا وہ جنگل جہاں خواتین کا راج چلتا ہے

دنیا کا وہ جنگل جہاں خواتین کا راج چلتا ہے

 

اگرچہ کولمبیا کے صدر جوان مینوئیل سینتوس اور باغیوں کے ایک سرکردہ لیڈرکے مابین سیز فائر کا ایک تاریخی معاہدہ ہو چکا ہے مگر یہ باغی کمانڈوز اب بھی”انٹیوکیا“ کے جنگل میں ہی رہائش پذیر ہیں۔ اب تک کم ہی کوئی شخص ان کے کیمپوں میں جا سکا تھا اس لیے بیرونی دنیا ان کے متعلق بہت کم جانتی تھی مگر امن معاہدے کے بعد لوگ اس کیمپ کی پراسراریت سے آگاہ ہونے لگے ہیں۔

 

دنیا کا وہ جنگل جہاں خواتین کا راج چلتا ہے

دنیا کا وہ جنگل جہاں خواتین کا راج چلتا ہے

برطانوی اخبار” ڈیلی میل“کی رپورٹ کے مطابق ان خواتین باغی کمانڈوز میں ایک کا نام ییرا کاسترو ہے۔ کاسترو دراصل باغی خواتین کے لیے گرو کی حیثیت رکھتی ہے اور حکومت کے ساتھ گزشتہ تین سال سے مذاکرات کرتی رہی ہے۔ حال ہی میں ان مذاکرات کے نتیجے میں اس نے ہوانا میں حکومت کے ساتھ ایک امن معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔ کاسترو کے پاس ایک پیلے رنگ کا لیپ ٹاپ ہے جو وہ اپنے کیمپ میں استعمال کرتی ہے۔ یہ باغی خواتین جنگلی سو¿ر پکڑ کر اسے پکاتی ہیں اور ہفتے تک تمام کیمپ اس سے گزارہ کرتا ہے۔

 

دنیا کا وہ جنگل جہاں خواتین کا راج چلتا ہے

دنیا کا وہ جنگل جہاں خواتین کا راج چلتا ہے

رپورٹ کے مطابق ایک اور باغی خاتون جولیانا نے اپنی کہانی بیان کرتے ہوئے بتایا کہ ”دیگر کئی خواتین کی طرح میں بھی سیاسی نظریئے کی بجائے اپنے ساتھ ہونے والے ایک حادثے کی وجہ باغیوں میں شامل ہوئی۔ 16سال کی عمر میں مجھے میرے سوتیلے باپ نے زیادتی کا نشانہ بناڈالا۔ اس کے بعد میں اپنے خستہ حال گھر سے فرار ہو گئی اور میرا ایک انکل باغیوں میں شامل تھا، لہٰذا میں بھی یہاں آ گئی۔“

 

دنیا کا وہ جنگل جہاں خواتین کا راج چلتا ہے

دنیا کا وہ جنگل جہاں خواتین کا راج چلتا ہے

جولیانا کا کہنا تھا کہ اگر میں ہتھیار نہ اٹھاتی تو میں کمپیوٹر کی تعلیم حاصل کرتی۔ مگر اب اگرچہ حکومت اور باغیوں میں امن ہو گیا ہے لیکن میں تب بھی یہیں باغیوں میں رہ کر ایف اے آر سی کے ساتھ ہی کام کروں گی۔میں خود کو سیاست میں حصہ لینے کے لیے تیار کرنا چاہتی ہوں اور ساتھ ہی میں اس تنظیم کے ساتھ اپنی وابستگی بھی جاری رکھنا چاہتی ہوں۔

 

دنیا کا وہ جنگل جہاں خواتین کا راج چلتا ہے

دنیا کا وہ جنگل جہاں خواتین کا راج چلتا ہے

 

ان باغیوں میں سے اکثر ایسے ہیں جو کئی عشروں سے حکومت کے خلاف جنگ لڑ رہے تھے۔ ایک جنگجو گزشتہ 25سال سے اس کیمپ میں موجود ہے اور حکومت کے خلاف لڑ رہا ہے۔ اس کے عام دنیا سے رابطے کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس نے اپنی زندگی میں آج تک کار نہیں چلائی۔ کولمیبا میں حکومت اور باغیوں کی اس لڑائی میں 2لاکھ 20ہزار لوگ لقمہ¿ اجل بن گئے اور 40ہزار سے زائد لاپتہ ہو گئے۔ جنگ کے باعث 50لاکھ سے زائد لوگوں بے گھر ہوئے۔ کسی بھی ملک میں بے گھر ہونے والوں کی یہ شرح شام کے بعد دنیا میں سب سے زیادہ ہے۔

 

دنیا کا وہ جنگل جہاں خواتین کا راج چلتا ہے

دنیا کا وہ جنگل جہاں خواتین کا راج چلتا ہے