تازہ تر ین
Prime Minister Nawaz Sharif Of Pakistan Meets Prime Minister David Cameron

استعفیٰ تیار،پاناما کا ہنگامہ سب کچھ بہاکرلے گیا،وزیراعظم نوازشریف بڑی حمایت سے محروم ،معروف صحافی نے سنگین دعوے کردیئے‎

اسلام آباد (یو این بی) پانامہ کا ہنگامہ سب کچھ بہا کر لے گیا، وزیراعظم نوازشریف بڑی حمایت سے محروم، معروف صحافی نے سنگین دعوے کر دیے، تفصیلات کے مطابق معروف صحافی مبشر لقمان نے نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں بات کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم ہاؤس کے اندر سے مجھے یہ خبر ملی ہے کہ بڑی سنجیدگی سے استعفیٰ دینے پر غور ہو رہا ہے، وزیراعظم ، ان کے رفقاء کار اور مشیروں کے درمیان یہ فیصلہ نہیں ہو رہا کہ کس وقت استعفیٰ دیں،کچھ لوگ سپریم کورٹ کا فیصلے آنے سے پہلے استعفیٰ دینا کا کہہ رہے ہیں ان کا کہنا ہے کہ استعفیٰ دے کر اپنی حکومت بنا دیں اور الیکشن کا اعلان کر دیں ، لیکن اٹھارہویں ترمیم کے بعد صوبائی اسمبلیاں خود مختار ہیں، وہ انہیں ختم نہیں کر سکتے، جے آئی ٹی کی رپورٹ کی روشنی میں وہ نا اہل ہونے جا رہے ہیں، مبشر لقمان نے مزید کہا کہ میاں نواز شریف،میاں شہباز اور ان کے بچوں میں اتفاق نہیں ہے، انہوں نے کہا کہ چوہدری نثار کئی روزسے وزیراعظم ہاؤس ہی نہیں گئے، کہا جا رہا ہے کہ میاں شہباز شریف اور چوہدری نثار کی زیر قیادت ایک نئی مسلم لیگ بنائی جائے اور وہ مسلم لیگ ایسی ہو گی جو مسلم لیگی رہنما ناراض ہو کر دوسری کسی جماعت میں جانا چاہتے ہیں وہ اس مسلم لیگ میں آ جائیں، انہوں کہا کہ اس وقت بھی مشاورتی اجلاس ہو رہا ہے جس میں میاں نواز شریف ذہنی طور پر استعفیٰ دینے کے لیے تیار ہوگئے ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں کہا کہ غیر ملکی میڈیا نے بھی وزیراعظم نواز شریف سے اپنا ہاتھ اُٹھا لیا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ کوئی بھی منی لانڈرر کے ساتھ نہیں ہوتا اور نہ ہی غریب کے ساتھ ہوتا ہے، چاہے کتنی ہی دوستی کیوں نہ ہو۔ انہوں نے مزید انکشاف کیا کہ مولانا فضل الرحمان نے مسلم لیگ (ن) کا ساتھ چھوڑنے کا حتمی فیصلہ کر لیا ہے۔ فضل الرحمان کی چار فائلز وزیراعظم ہاؤس میں منظوری کے لیے پڑی ہوئی ہیں، جن کے تصدیق ہونے کا انتظار کیا جا رہا ہے۔جیسے ہی ان فائلز پر دستخط ہو جائیں گے تو اگلے 72 گھنٹوں میں مولانا فضل الرحمان کا بھی ضمیر جاگ جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ وزیر اعظم نواز شریف جس پارلیمنٹ کو بچانے کی بات کر رہے ہیں ،انہوں نے خود پارلیمنٹ کے ساتھ ڈھونگ کیا۔ مبشر لقمان نے کہا کہ چار سال کے اندر پارلیمانی میٹنگز صرف دو ہیں، ان کو دیکھتے ہوئے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ وزیراعظم نواز شریف پارلیمنٹ کو کتنی اہمیت دیتے ہیں۔