تازہ تر ین
شام میں
شام میں باغیوں نے حلب کا حکومتی محاصرہ توڑ

شام میں باغیوں نے حلب کا حکومتی محاصرہ توڑ دیا

شام میں

شام میں باغیوں نے حلب کا حکومتی محاصرہ توڑ

شام میں باغیوں نے حلب کا حکومتی محاصرہ توڑ دیا

شام میں باغیوں کے دھڑے نے حلب شہر میں کئی ہفتوں سے جاری حکومتی محاصرہ ختم کرنے کا دعویٰ کیا ہے. جس کے بعد شام کے اس اہم شمالی شہر میں خوشیاں منائی جا رہی ہیں۔
تاہم حکومتی ذرائع س بات سے انکار کر رہے ہیں. کہ سنیچر کے روز ہونے والی لڑائی کے دوران باغیوں کو کوئی کامیابی ملی ہے۔ انھوں نے کہا کہ باغیوں کو توپ خانے کے ایک مرکز سے پیچھے دھکیل دیا گیا ہے۔
اس کے برعکس باغیوں نے دعویٰ کیا ہے. کہ حلب میں حزبِ مخالف کی فورسز نے حکومت کا محاصرہ توڑ کر اپنے زیرِ اثر علاقے میں کمک حاصل کر لی ہے۔
سامان کی کھیپ، جس میں اشیائے خورد و نوش شامل ہیں باغیوں کے زیِر اثر حلب کے مشرقی حصے میں پہنچ گئی ہے.  انسانی حقوق کے کارکنان کا کہناہے کہ یہ راستہ شہریوں کے استعمال کے لیے اب بھی خطرناک ہے۔
حلب سے آنے والی تازہ تصاویر میں باغیوں کے حامیوں کو خوشیاں مناتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

برطانیہ سے شام کی صورت حال پر نظر رکھنے والی تنظیم سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کا کہنا ہے کہ باغی حلب شہر میں موجود اپنے ساتھیوں سے رابطے بحال کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں لیکن باغیوں کو شہر تک محفوظ راستہ تلاش کرنے میں کامیابی نہیں ہو سکی۔
باغیوں کے اس گروہ میں شدت پسند تنظیم القاعدہ کی حمایت یافتہ تنظیمیں بھی شامل ہیں۔
ادھر کیتھولک مسیحیوں کے روحانی پیشوا پوپ فرانسس نے اتوار کو منعقدہ ایک مذہبی تقریب کے دوران حلب کی صورت حال کے بارے میں کہا ہے کہ ’طاقتور قوتوں کی شام میں امن قائم کرنے میں عدم دلچسپی کی قیمت شام کے عام شہری ادا کر رہے ہیں۔‘
پوپ فرانسس کا مزید کہنا تھا کہ ’یہ قابلِ قبول نہیں کہ اس خانہ جنگی کی قیمت بچوں سمیت دیگر معصوم لوگ ادا کریں۔‘
یاد رہے کہ شام میں حکومتی افواج نے گذشتہ ماہ باغیوں کے زیر قبضہ شہر حلب کا محاصرہ کیا تھا۔ جس کے بعد ڈھائی لاکھ افراد شہر میں محصور ہو کر رہ گئے تھے۔
دوسری جانب امریکہ کے حمایت یافتہ کرد اور عرب جنگجوؤں نے شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے زیرِقبضہ شام کے شہر منبج‎‎ پر تقریباً مکمل کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔
ترکی کی سرحد کے قریب واقع یہ شہر دفاعی اعتبار سے اہم سمجھاجاتا ہے اور گذشتہ دو برس سے اس پر دولتِ اسلامیہ کا قبضہ تھا۔
شام کی افوج کی روس کے فضائی آپریشن کی مدد سے باغیوں سے لڑ رہی ہے۔
خیال رہے کہ مارچ 2011 سے شام میں شروع ہونے والے اس تنازعے کے آغاز کے بعد سے اب تک دو لاکھ 80 ہزار افراد ہلاک اور لاکھوں بےگھر ہو چکے ہیں جبکہ تین لاکھ افراد تاحال ان علاقوں میں پھنسے ہوئے ہیں۔