تازہ تر ین
fashion
حسن ہو تو نزاکت آہی جاتی ہے۔

حسن ہو تو نزاکت آہی جاتی ہے۔

fashion

حسن ہو تو نزاکت آہی جاتی ہے۔

حسن ہو تو نزاکت آہی جاتی ہے۔

پاکستان کی فیشن انڈسٹری کا نام دنیا کی بڑی انڈسٹریوں میں.
فیشن انڈسٹری سے وابستہ افراد کا کہنا ہے نئے فیشن ڈیزائیرز جہاں اپنے کام میں جدت لا رہے ہیں وہیں رنگوں کے انتخاب میں بھی بہتری دیکھنے کو آرہی ہے۔ امید کی جا رہی ہے کہ آئندہ چند سالوں میں پاکستان کی فیشن انڈسٹری کا نام دنیا کی بڑی انڈسٹریوں میں ہوگا اور اگر اسی طرح فیشن ایونٹس کا انعقاد پورے ملک میں ہوتا رہے گا تو اس کے مثبت نتائج سامنے آئیں گی اور پاکستان کا سوفٹ امیج بھی پوری دنیا تک پہنچے گا۔

fashion

حسن ہو تو نزاکت آہی جاتی ہے۔

لاہور ادبی فیسٹیول، خیال فیسٹیول، ڈانس فیسٹول، صوفی فیسٹیول اور ان جیسے کئی ثقافتی پروگرامز کا انعقاد اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہیں کہ پاکستان میں دہشت گردی کے منڈلاتے سائے اب ختم ہوچکے ہیں یا اگر ہیں بھی تو وہ نا ہونے کے برابر ہیں۔
رنگوں کی اس بہار میں موسم بہار کے رنگ کچھ زیادہ ہی گہرے دکھائی دیے اور مارچ کے مہینے میں سب سے زیادہ فیشن کے جلوے اور کانوں میں رس گھولتی موسیقی سننے کو ملی۔ مارچ کے پہلے ہفتے ہی پی ایف ڈی سی فیشن ویک سجا جس میں ملک کے نامور ڈیزائنرز ایچ ایس وائے، ماریہ بی، نیلوفر، ثناء سفینہ، نومی انصاری، علی ذیشان، ثانیہ مسقاتیہ، نکی نینا، کامیارروکنی، زارا شاہ جہاں، دیپک پروانی اور صوبیہ نزیر سمیت کئی ڈیزائنرز نے اپنی کولیکشن پیش کی۔

fashion

حسن ہو تو نزاکت آہی جاتی ہے۔