تازہ تر ین
shahbaz ch 1
شہباز چوہدری

وقت کی دوڈ

past time

وقت کی دوڈ:

وقت کی دوڈ:

shahbaz ch 1

شہباز چوہدری

ہزاروں سال گزر گئے ہیں پچھتاوا اب بھی باقی ہے۔
جب چھوٹا تھا تو ماں باپ خوب نخرے اٹھاتے تھے کسی چیز کی کوئی فکر نہیں تھی اپنی مرضی سے سونا اور مرضی سے اٹھنا۔ مرضی سے کھانا مرضی سے پینا اور مرضی سے کھیلنا۔ ہر دل عزیز اور آنکھوں کا تارا تھا۔ پھر آہستہ آہستہ بڑاہوتا گیا۔ پہلے سکول پھر کالج پھر یونیورسٹی اور پھر نوکری ۔ ذمہ داریاں بڑھتی گئیں پریشانیاں بڑھتی گئیں۔ شادی ہو گئی۔ بچے ہو گئے والدین چھوٹ گئے ، بچے بڑے ہو گئے، بچوں کی ذمہ داریوں میں زندگی پوری ہو گئی۔ بچوں کی شادی ہو گئی بچے چھوٹ گئے۔ اور آخر زندگی نے بھی ساتھ چھوڑ دیا۔

اب قبر میں لیٹا سوچ رہا ہوں کہ دنیا میں کیا خاص کام کیا کیا میں نے۔۔۔۔ ساری زندگی کی فلم آنکھوں میں گھوم گئی۔ وقت نے ایسی دوڑ لگائی کہ کوئی بھی ایسی چیز یاد نہ آئی جو مجھے دنیا میں زندہ رکھ سکتی۔۔۔۔
افسوس آج میں کچھ نہیں کر سکتا۔ اور جب میں کر سکتا تھا تب میں نے توجہ نہ کی۔
کاش میں ایک درخت ہی لگا سکتا جس کی پھولوں پھلوں اور بیجوں سے درختوں کا ایک خاندان جنم لیتا اور تا قیامت اس کا اجر میں کھاتے میں لکھا جاتا۔
وقت آج بھی دوڑے جا رہا ہے لوگ آج بھی مرے جارہے ہیں۔ پر کسی کو فکر نہیں کے آگے کیا ہونے والا ہے۔

اے بندہ ناچیز مجھ سے کچھ سبق سیکھ۔.