تازہ تر ین
shahbaz ch 1
شہباز چوہدری

جادو کی ڈبیاں

koko Baba

shahbaz ch 1

شہباز چوہدری

جادو کی ڈبیاں 

لمبے سفید الجھے ہوئے بالوں سے 4 فٹ بلند پتھر پر آنکھیں بند کیا ہوئے بیٹھا بوڑھا شخص کسی اور ہی دنیا میں گم تھا۔ اچانک نیرو اور پیرو ہرن کا شکار لے کر اس کے سامنے آ بیٹھے۔ بوڑھے نے ایک دم اپنی سرخ آنکھیں کھولیں اور انھیں دیکھنے لگا۔ سرخ آنکھوں کو دیکھ کر پیرو نے خوف زدہ ہو کر پوچھا بابا کیا ہوا۔

بوڑھا سرگوشی میں بولا جادو کی دنیا۔۔۔
پیرو نے ہرن کی کھال کی بنی نیکر کو ٹھیک کرتے ہوئے حیرانگی سے نیرو کی طرف دیکھا تو نیرو نے بابا جی کہ الفاظ دوہرائے جادو کی دنیا۔۔۔؟
بوڑھے نے پھر آنکھیں بند کر لیں ماتھے کے بل بتا رہے تھے کہ وہ کسی گہری سوچ میں ہے۔
بوڑھے نے پھر بولنا شروع کیا تو نیرو اور پیرو شکار چھوڑ کر بوڑھے کو غور سے سننے لگے۔
طلسم ہے طلسم ہر طرف جادو ہی جادو ہے۔
ہر چیز ڈبوں کے ذریعے ہو رہی ہے۔ ہر شہزادے کے پاس جادو کی ڈبیاں ہیں۔
بوڑھے نے پل بھر کے لیے آنکھیں کھولیں نیرو اور پیرو کے حیران و پریشان چہرے دیکھے اور پھر آنکھیں بند کر لیں۔
تمھارا سب سے تیز گھوڑا بھی دریائے نیل تک جانے میں 30 دن کا وقت لیتا ہے۔ مگر اس دنیا میں ڈبے ہیں جو پورب سے پچھم تک ایک دن میں انسانوں کو سینکڑوں کی تعداد میں لے جارہے ہیں ۔ لوہے کے ڈبے ہیں نہ کوئی گھوڑا نہ کوئی گدھا یہ ڈبے خود بہ خود چلتے ہیں کچھ زمین پر چلتے ہیں کچھ آسمان پر اڑتے ہیں۔ہر طرف ڈبوں کا ایک سمندر ہے۔

شام کا وقت ہوتے ہی شہزادے اور شہزادیاں اپنے محلوں کا رخ کرتے ہیں۔ محلوں میں ایسے ڈبے ہیں جو پوری دنیا کا احوال بتا رہے ہیں۔

دریائے فرات میں ایک شخص ڈوب کر مر گیا، ایران کا بادشاہ چین پہنچ گیا، ہند کی سر زمین پر بھونچال آگیا، افریقہ کے جنگلوں میں آگ لگئی، فارس میں بارشوں نے تباہی مچا دی۔ جادو کا ڈبہ نہ صرف بول بول کر بتا رہا ہے بلکہ وہ جگہیں بھی دکھا رہا ہے۔

نیرو اور پیرو پہلے ہی جادو کے ڈبے کی خوبیوں سے حیران تھے مگر یہ بولنے والے ڈبے کے کمالات نے انھیں اور بھی تجسس میں مبتلا کر دیا۔
ہزاروں سوالات ان کے دماغ میں گھوم رہے تھے۔۔۔
لوہے کا ڈبہ چل کیسے سکتا ہے ؟ ڈبہ اڑ کیسے سکتا ہے؟ ڈبہ بول کیسے سکتا ہے؟ اور ڈبہ دکھا کیسے سکتا ہے؟؟؟

گہری سانس لینے کے بعد بوڑھا پھر بولا
ہر بندے نے قیمتی لباس پہنا ہوا ہے۔ ایسا لباس جو نہ پتوں کا ہے نہ کھال کا ہے۔ نہ ان کا وزن ہے اور ملاتم اتنے کہ پتا ہی نہیں چلتا لباس پہنا بھی ہے کہ نہیں۔
ہر بندہ شہزادہ اور عورت شہزادی لگ رہی ہے۔ پیروں پر اتنے خوبصورت اور نفیس چمٹرے ہیں پتا ہی نہیں لگنے دیتے کہ زمین کھردری ہے یا ہموار ہے۔
جادو کی ڈبیوں کا تو کوئی حساب ہی نہیں ہے۔
ایک ڈبی محل کی دیوار پر لگی ہے جس پر کوئی شہزادہ جب ہاتھ لگاتا ہے تو رات کے پہر میں بھی پورے محل میں روشنی ہو جاتی ہے۔
ایک ڈبی ایسی ہے جو دنیا کا حال بتانے والے ڈبے کی طرف کی جاتی ہے تو ڈبہ جو دنیا کا حال بتا رہا ہوتا ہے۔ عورتوں کا ناچ گانا دکھانا شروع کر دیتا ہے۔ عورتیں ایسی سرخ و سفید کہ جیسے پرستان کی پریاں ہوں۔
ایک ڈبی ایسی ہے جو شعلہ پیدا کرتی ہے اور مسلسل کرتی رہتی ہے۔
سب سے اہم ڈبی جو شہزادے کے لباس کے اندر ہے جسے وہ تھوڑی تھوڑی دیر بعد نکال کر دیکھتا ہے اور پھر رکھ لیتا ہے۔ یہ ڈبی نہ صرف اس کو دنیا کا حال بتاتی ہے بلکہ پورب میں رہنے والے  شہزادوں کی پچھم میں رہنے والی شہزادیوں سے بات کرواتی ہے۔ دنوں مہینوں اور سالوں کا حساب بتاتی ہے۔

آنے والے موسم کا احوال بتاتی ہے۔ تصوریر بناتی ہے۔ گانے بجاتی ہے۔ تبلا بجاتی ہے سوتے ہوئے وقت پر جگاتی ہے۔ بھولے ہوئے کام یاد دلاتی ہے اور اس کے علاوہ وہ وہ کام کرتی ہے جو میری سمجھ سے بالا تر ہے۔۔۔
ایک ڈبہ پانی کو گرم کر رہا ہے اور ایک ٹھنڈا
ایک ڈبہ گرم ہوا دے رہا ہے اور ایک ٹھنڈی ہوا
ایک ڈبہ چیزوں کو گرم کر رہا ہے اور ایک ٹھنڈا

یہ ڈبوں کی دنیا ہے۔ ہر طرف ڈبے ہی ڈبے ہیں۔
بوڑھے نے تھوڑی دیر خاموشی اختیار کی اور اپنی دوبارہ آنکھیں کھولیں۔ آنکھوں میں کرب کی اثار تھے۔ جیسے کسی چیز نے اسے بہت تکلیف دی ہو۔
نیرو  جو اتنی دیر سے طلسم کی دنیا میں کھویا ہوا تھا سے باہر آتے ہوئے پوچھا کیا ہوا بابا جی۔۔۔؟

بابا جی بولے

بہترین دنیا ، بہترین لوگ، بہترین سہولیات مگر موت تو وہاں بھی موجود ہے۔

میں ایسی دنیا کی تلاش میں ہوں جہاں موت کا وجود نہ ہو ۔ ۔ ۔ ۔