تازہ تر ین
رئیل سٹیٹ فراڈ اور جعلی ہاؤسنگ سوسائٹیاں
رئیل سٹیٹ فراڈ اور جعلی ہاؤسنگ سوسائٹیاں

رئیل سٹیٹ فراڈ اور جعلی ہاؤسنگ سوسائٹیاں

 رئیل سٹیٹ فراڈ اور جعلی ہاؤسنگ سوسائٹیاں

رئیل سٹیٹ فراڈ اور جعلی ہاؤسنگ سوسائٹیاں

رئیل سٹیٹ فراڈ اور جعلی ہاؤسنگ سوسائٹیاں

نیب پنجاب نے ایسے رئیل سٹیٹ مالکان کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کیا ہو ہے۔ جنہوں نے جعلی ہاؤسنگ سوسائٹیاں بنا کر سادہ لوح عوام کو لوٹا ہے۔ زمین ہے نہیں اور پلا ٹو ں کی بکنگ جاری ۔ ایک بڑی اشتہاری مہم ایک سائٹ دفتر، چند لڑکیاں اور پیسے بنانے کی مشین شروع۔ لاہور میں ایسے رئیل سٹیٹ فراڈیے بھی موجود ہیں جو بر ملا یہ کہتے تھے کہ انہوں نے تو اس زمین پر بھی پلاٹ بنا کر بیچ دیئے ہیں، جس کا کوئی وجود نہیں۔ جعلی نقشے۔ جعلی خسرے۔ جعلی سکیمیں ۔ سب کام بہت کھل کر ہوا ہے۔

چیئرمین نیب سے یہ درخواست ہے کہ وہ ایک طرح کے فراڈیو ں اورچوروں کو اکٹھے شکنجے میں لائیں تا کہ ان کے خلاف اکٹھے کاروائی ہو سکے۔ اس طرح ایک تو کسی کوملک سے باہر فرار کا موقع بھی نہیں ملے گا۔ یکساں انصاف کے اصول پربھی عمل ہو جائے گا۔ اور نیب کی ساکھ بھی بہتر ہو گی۔
گزشتہ ایک ماہ میں نیب پنجاب نے رئیل سٹیٹ کی بڑی بڑی مچھلیاں گرفتار کی ہیں۔ ان میں سے ایک مچھلی کو گزشتہ روز گرفتار کیا گیا ہے، جس کے خلاف سترہ ہزار متاثرین نے نیب سے رجوع کیا تھا۔ اس سکینڈل میں سابق آرمی چیف جنرل (ر) اشفاق پرویز کیانی کے بھائی کامران کیانی کا بھی نام لیا جا رہا ہے۔ خبر یہ بھی ہے کہ بڑی مچھلی کو اس لئے گرفتار کیا گیا ہے تا کہ کامران کیانی کےخلاف گھیرا تنگ کیا جا سکے۔ کیا یہ مچھلی کامران کیانی کے خلاف کوئی بیان دے گی یا نہیں۔ ویسے کامران کیانی چند ماہ قبل جب انہیں نیب سے پہلا نوٹس ملا تھا تب ہی ملک سے چلے گئے تھے اور مستقبل قریب میں ان کا واپس آنے کا بھی کوئی ارادہ نہیں ہے۔اس لئے وہ محفوط ہیں۔

بہر حال یہ بات بھی حقیقت ہے کہ نیب نے ان رئیل سٹیٹ کی بڑی فراڈ مچھلیوں کے خلاف ایکشن لینے میں کافی تاخیر کر دی ہے، جس کی وجہ سے لوٹ کا مال اور فراڈیے بھی باہر جاچکے ہیں۔ یا باہر جانے کی تیاری میں ہیں۔ اس لئے اس بڑی مچھلی کے بعد باقی بڑی مچھلیاں فرار ہو رہی ہیں۔ ان میں زیادہ تر پہلے ہی لوٹ کے مال کے زور پر نہ صرف دوسرے ممالک کی شہریت لے چکے ہیں،بلکہ انہوں نے دوسرے ممالک میں کاروبار بھی مستحکم کر لئے ہیں۔ اس لئے لوٹ کا مال اور لٹیرے دونوں فرار کی راہ پر ہیں۔ اور بلا شبہ نیب تاخیر کر ہا ہے۔

رئیل سٹیٹ فراڈ یوں کی ایک خوبصورت بات یہ بھی ہے کہ یہ سب نیب کے ساتھ پری بارگین کرنے کو تیار ہیں۔ ان سب کا بہت معصومانہ موقف ہے کہ انہوں نے لوگوں سے جو پیسے لئے ہیں وہ یہ واپس کرنے کے لئے تیار ہیں۔ ایک بڑی مچھلی کے بارے میں یہ کہا جا تا ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ سب کو ان کی رقم واپس دینے کے لئے تیار ہیں۔ بشرطیکہ نیب ان کے خلاف مقدمے ختم کر دے۔ مَیں نے نیب کے ایک اعلیٰ افسر سے پوچھا کہ یہ بہت اچھی بات ہے جب یہ سب لوگوں کو ان کی اصل رقم واپس کرنے کو تیار ہیں تو نیب رکاوٹ کیوں ہے، تو نیب کا وہ افسر مسکرایا۔ اور اس نے کہا کہ اگر کسی نے چھہ سال پہلے ان سے 20 لاکھ کا ایک دس مرلہ کا پلاٹ خریدا تھا تو یہ اس کو چھ سے دس سال بعد وہی بیس لاکھ روپے دینا چاہتے ہیں، جبکہ اگر انہوں نے اسے پلاٹ دیا ہو تا تو آج اس غریب کے پلاٹ کی قیمت کئی گنا بڑھ چکی ہوتی۔

یہ ان غریب متاثرین کے ساتھ نا انصافی ہے کہ انہیں چھ سے دس سال پرانی رقم ہی واپس کی جائے۔ اس ضمن میں یہ بھی کہانی مارکیٹ میں ہے کہ ایک بڑی مچھلی کے پاس اپنے پراجیکٹ کی زمین موجود ہے، لیکن وہ اپنے ممبران کو دینے کے لئے تیار نہیں۔ جب اس سے پوچھا گیا تو اس نے کہا کہ چھ سال قبل جب مَیں نے یہ پلاٹ بیچے تھے تو زمین کی قیمت بہت کم تھی اب زمین کی قیمت کئی گنا بڑھ چکی ہے۔ اس لئے میں یہ پلاٹ اتنے سستے نہیں دینا چاہتا۔ اس لئے میں ان کو ان کے دئے ہوئے پیسے واپس کردیتا ہوں اور یہ پلاٹ دوبارہ مہنگے دام فرخت کرونگا۔ وہ یہ بھول گئے ہیں کہ انہوں نے یہ زمین بھی ان ممبران کے پیسے سے ہی خریدی تھی۔

نیب سے یہ درخواست ہے کہ رئیل سٹیٹ فراڈئیوں سے پری بارگین کرتے ہوئے آج کی قیمت کو ذہن میں رکھا جائے۔ اگر پرانے پیسے ہی واپس لئے جائیں گے تو اس سے فراڈ بڑھے گا کم نہیں ہو گا۔ فراڈیو ں کی حوصلہ افزائی ہو گی اور وہ شیر ہو جائیں گے۔ بہر حال آخر میں پھر سابق صدر آصف علی زرداری کی وہی بات کہ من مسند احتساب بھی کرپشن ہے۔