تازہ تر ین
بلغاریہ کی انجہانی بابا وانگا نامی نابینا بوڑھی عورت

بلغاریہ کی انجہانی بابا وانگا نامی نابینا بوڑھی عورت کی پیش گوئیاں

بلغاریہ کی انجہانی بابا وانگا نامی نابینا بوڑھی عورت

بلغاریہ کی انجہانی بابا وانگا نامی نابینا بوڑھی عورت کی پیش گوئیاں

بلغاریہ (نیوز ڈیسک) بلغاریہ کی انجہانی بابا وانگا نامی نابینا بوڑھی عورت نے رواں سال ایک بڑی جنگ کی پیشگوئی کر دی ہے۔ یہ جنگ کہاں ہو گی؟ اس کے دنیا پر اثرات کیا ہونگے ؟ کہاں چھڑنے والی ہے یہ جنگ؟ کیا کچھ تباہ ہوگا؟ بوڑھیا کے مریدوں نے نظریں بوڑھیا پر لگی ہوئی ہیں۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق بوڑھیا کی پیشگوئیوں نے کچھ عرصے سے دہشت گردی پر عرب ممالک کے جنگی حالات اور یورپ میں ہل چل مچائی ہوئی ہے۔
مستقبل میں ہونے والے واقعات کی پیشگی خبر دینے والی بوڑھیا خود حیات نہیں ہیں مگر ان کی بہت سی پیشگوئیاں درست ثابت ہوئی ہیں۔ بابا وانگا نامی نابینا بوڑھی عورت نے آج سے کئی سال پہلے دولت اسلامیہ “داعش“ کے وجود میں آنے کی پیش گوئی کی تھی۔ انہوں نے 2016 میں ایک بڑی جنگ کی پیش گوئی کر رکھی ہے۔ بابا وانگا نامی نابینا بوڑھی عورت کی پیش گوئی میں روم کی خلافت کے بارے میں موجود ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ اسلامی خلافت1943 میں امریکہ کے ہا تھوں ختم ہو گی۔ جس کو “ عالمی جنگ“ ٹو کا نام دیا گیا ہے۔
بتایا جاتا ہے کہ بابا وانگا نامی نابینا بوڑھی عورت جب12 سال کی تھی تب ایک طوفان کی زد میں آ کر وہ مٹی میں دب گئی تھی۔ جس میں اس کی آنکھیں چلی گیئں۔ مگر قدرت نے اس میں کچھ اور طاقتیں پیدا کر دی۔ جس سے وہ مریضوں کا علاج کرتی اور پیشگوئیاں کرتی۔
بابا وانگا نامی نابینا بوڑھی عورت کی پیشگوئیوں نے اسے مشہور کر دیا۔ کچھ عرصہ وہ بلغاریہ کی سوشلسٹ پارٹی کی مشیر بھی رہی۔
اس نے اپنے ملک میں ہونے والے سیکڑوں واقعات کی پیشگوئیاں کی جس کی بنا پر ان کو “بلقان کی نوسڑاڈاموس“ کا نام دیا گیا۔
بابا وانگا نامی نابینا بوڑھی عورت کے مریدوں کا کہنا ہے کہ خاتون نے2004 میں آنے والے سونامی کی بھی پیش گوئی کی تھی۔ سرد علاقے گرم ہو جائیں گے اور آتش فشاں پھوٹ پڑیں گے۔ پانی اوپر چڑ جائے گا۔ مریدوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس نے مرنے سے پہلے امریکہ پر نائن الیون حملوں کی پیشن گوئی کی تھی۔ انہوں نے کہا تھا کہ “ خوف خوف خوف ہوشیار! ، امریکہ میں دو فولادی پرندوں کے ٹکرانے سے دو بھائی گریں گے۔ بہت خون پہے گا اور بھیڑیے واویلا کریں گے۔
انٹرنیٹ پر اس حوالے سے اور بھی پیشگوئیاں موجود ہیں مگر ان کے کچھ مرید اس حوالے سے یقین نہیں رکھتے۔