200سال قبل کی گئی پیش گوئی نے دنیاکوخوف میں مبتلاکردیا

200سال قبل کی گئی پیش گوئی نے دنیاکوخوف میں مبتلاکردیا

200سال قبل کی گئی پیش گوئی نے دنیاکوخوف میں مبتلاکردیا

روس اور ترکی میں فیصلہ کن جنگ، 200سال قبل کی گئی پیش گوئی نے دنیاکوخوف میں مبتلاکردیا

لندن (نیوزڈیسک)دنیا میں روس اورترکی کے کشیدہ تعلقات کشیدہ ہونے پرعالمی جنگ کے خطرے پربحث جاری ہے۔ ایسے ہی ایک مذہبی پیشواکی تقریباسوا200سال قبل کی گئی ایک پیش گوئی نے دنیاکومزیدخوف میں مبتلاکردیا ہے۔

برطانوی اخبار”ڈیلی سٹار“ کی رپورٹ کے مطابق ایلیجاہ بن شلوموز زلمان نے 1797 میں اپنی موت کچھ عرصہ قبل اپنے پیروکاروں کواس پیش گوئی میں متنبہ کیاتھا کہ ایک وقت آئے گاجب روس کریمیا پرقابض ہوجائے گا اور اس کے فورا بعد قیامت برپا ہو جائے گی اس کے لئے تیار رہنا. یہودی مذہبی پیشوانے مزیدپیشوا نے مزید کہا تھا کہ ”کریمیا پر قبضے کے کچھ عرصے بعد روس اورترکی میں فیصلہ کن جنگ ہوجائے گی اورقیامت برپا ہوجائے گی “۔

پیش گوئی کاپہلاحصہ توعرصہ قبل سچ ثابت ہوچکا ہے۔ اس سے بظاہرلگتا ہے کہ اس کی پیش گوئی کادوسراحصہ بھی سچ ثابت ہونے جارہا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اسی دورکے ایک رہنما یسروئیل بن علیزر نے بھی اس سے ملتی جلتی پیش گوئی میں کہاتھا کہ ”دنیاکی آخری اور فیصلہ کن جنگ میں روس مسلمانوں سے اتحاد کرلے گا۔ انہوں نے کہا تھا کہ روس اس علاقے (عرب ممالک ) میں آئے گا اور اسماعیل کے بیٹوں (مسلمانوں) سے کے ساتھ مل جائے گا۔

اس وقت مسیحاکے قدموں کی چاپ سنائی دینے لگے گی اور قیامت قریب ترہوگی۔برطانوی اخبارکا کہنا ہے کہ اس وقت روس شام اورایران کے ساتھ اتحاد کرچکا ہے جبکہ اس کے ترکی ساتھ تعلقات بھی جنگ کی نہج پرپہنچ چکے ہیں۔ اس سے لگتا ہے کہ اس کی پیش گوئی سچ ثابت ہونے والی ہے۔