قبرستان پر بنا اسکول ،کالے کپڑوں میں ملبوس پراسرار چیز نے80 بچوں کو ہسپتال پہنچا دیا

amazing school

قبرستان پر بنا اسکول ،کالے کپڑوں میں ملبوس پراسرار چیز نے80 بچوں کو ہسپتال پہنچا دیا

قبرستان پر بنا اسکول ،کالے کپڑوں میں ملبوس پراسرار چیز نے80 بچوں کو ہسپتال پہنچا دیا

پیرو (نیوز ڈیسک) لوکل میڈیا کے مطابق 80 سے زائد بچے کسی پراسرار مرض کی لپیٹ میں آ گئے ہیں. جن میں زیادہ تر ہسپتال منتقل کر دیئے گئے ہیں. یہ واقعہ تراپوتو کے السا پیریا فلورس اسکول میں پیش آیا. انٹرنیٹ پر وائرل ہونے والی ویڈیو میں بچوں کو چیختے اور بیہوش ہوتے دیکھا جا سکتا ہے، متاثر ہونے والے طلبہ میں زیادہ تر 11سے 14 سالہ بچیاں ہیں. بچوں نے بتایا کہ انہیں کالے کپڑوں میں ملبوس ایک آدمی مارنے کی کوشش کرتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔

اسکول انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہ بیماری پہلی دفعہ اپریل میں سامنے آئی تھی اور ایک ہی ماہ میں 80سے زائد بچے اس کی لپیٹ میں آ چکے ہیں. متاثرہ بچوں کو فوراًامداد کے لئے ہسپتال منتقل کیا جاتا رہا ہے۔ہسپتال ذرائع نے بتایا ہے کہ ڈاکٹرز بھی اس بیماری کو دیکھ کر حیران و پریشان ہیں۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ ان کے پاس اس بیماری کی کوئی سائنٹفک تشریح نہیں ہے۔سینئر ڈاکٹر انتھونی چوے نے نجی ٹی وی چینل سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ یہ ان کی سمجھ سے بالاتر ہے کہ یہ بیماری کیا ہے اور اب تک بچوں کو کیسے متاثر کر رہی ہے؟ہمیں بس اتنا پتا ہے کہ یہ 29 اپریل سے شرو ع ہوا ہے اور ابھی تک چل رہی ہے۔

ایک والدہ جس کی بچی بھی اس بیماری سے دوچار ہے نے انٹرویو میں بتایا کہ ڈاکٹروں کو ابھی تک بیماری کی وجہ یا علاج کا کوئی علم نہیں ہے۔ السا دی پزانگو کی بیٹی اسکول میں بیہوش ہو گئی تھی، جس کے فوری بعد اسے ہسپتال منتقل کیا گیا، ابھی تک وہ کچھ بول نہیں رہی، صرف منہ سے جھاگ تھوکتی جا رہی ہے۔

ایک اور طلبہ نے بتایا کہ اسے کالے کپڑوں میں ملبوس داڑھی والا ایک شخص قتل کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔مجھے اس واقعے کے بارے میں سوچ کر بھی خوف آ جاتا ہے، ایسے محسوس ہو رہا تھا جیسے کوئی میرے پیچھے بھاگ رہا ہے، ایک لمبا آدمی جس نے کالے کپڑے پہن رکھے تھے اور لمبی کالی داڑھی تھی، ایسے محسوس ہو رہا تھا جیسے وہ میرا گلہ گھوٹ کر مجھے مارنا چاہ رہا ہے۔میری دوستوں نے مجھے بتایا کہ میں بہت زیادہ چیخ رہی تھی لیکن مجھے زیادہ کچھ یاد نہیں

ایک اور طلبہ جس پر بیماری کا اثر نہیں ہوا میڈیا سے بات کرتے ہوے بتا رہی تھی کہ اس کی دوست کو سانس لینے میں دقت پیش آ رہی تھی، وہ مسلسل اپنا گلا چھڑوانے کی کوشش کر رہی تھی جیسے کوئی زور سے گلا دبا رہا ہو۔ طلبہ کی کچھ اور دوستوں نے یہ بھی بتایا کہ وہ بار بار باہر نکالو چلا رہی تھی۔

علاقے کے مکینوں کا ماننا ہے کہ ان بچوں پر جنات ہاوی ہو رہے ہیں۔ علاقے کے لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ اسکول ایک پرانے ظالم مافیا گروپ کے قبرستان کو ختم کر کہ بنایا گیا تھا۔وہ مافیا علاقے میں عام قتل و غارت کرتا تھا. اور اب شاید ان کی ہی روحیں بچوں پر قابض ہو رہی ہیں.

سوشل میڈیا پر کافی لوگوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ سارا واقعہ کسی گیس لیک کی وجہ سے ہو سکتا ہے جو بچوں کی سانس لینے کی قابلیت کو بری طرح متاثر کر رہی ہے۔ لیکن یہ تجزیہ باقی لوگ یہ کہہ کر رد کر دیتے ہیں کہ اگر گیس لیک ہوتی تو اس سے ارد گرد کے تمام بچے متاثر ہوتے.