رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جدائی کے لمحات

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جدائی کے لمحات

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جدائی کے لمحات

 

 

 

جب مدینہ منورہ کے درودیوار سوگوار تھے صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین خون کے آنسو رورہے تھے
صدمہ ناقابل برداشت تھا

میرے اور آپ کے محبوب ﷺکی آخری وصیتیں اور آخری لمحات پر یہ پوسٹ ہے،
اس کا ترجمہ بھیج رہا ہوں،
یہ عام پوسٹ نہیں جس کی عمر ایک دن سے زیادہ نہ ہو،
یہ پندرہ صدیوں سے ابھی تک تازہ اور ایمان کو گرمادینے والی تحریر ہے،
اس کے بعض الفاظ کا ترجمہ کماحقہ تو نہیں کیا جاسکتا کہ وہ جگر پارہ پارہ کردینے والے الفاظ ہیں۔
یکسوئی سے پڑھیں۔

جزاکم اللہ خیرا

آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم
کی آخری وصیتیں

آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کے وصال سے کچھ عرصہ قبل حجة الوداع کا موقع تھا، جب یہ آیت نازل ہوئی
اليوم أكملت لكم دینکم….. الخ
ترجمہ:
“آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین مکمل کر دیا اور تم پر اپنی نعمت پوری کر دی اور اسلام کو تمہارے لیے بطور دین کے ہمیشہ کے لیے پسند کر لیا۔”
یہ آیت سن کر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ رونے لگے۔۔۔

لوگوں نے تعجب سے پوچھا کہ
اے ابوبکر !!
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہونے والی دیگر آیتوں کی طرح یہ بھی
ایک آیت ہی ہے،
پھر آپ اس طرح کیوں رو رہے ہیں؟؟

سیدنا ابو بکر رضی الله تعالی عنہ نے فرمایا:
“یہ آیت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کی خبر ہے۔”

رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی وفات سے 9 روز قبل قرآن مجید کی آخری آیت نازل ہوئی
واتقوا یوما ترجعون فیه الی الله….الخ
ترجمہ:
“اور ڈرو اس دن سے جب تم سب اللہ کے پاس لوٹ کر جاؤ گے، پھر ہر شخص کو جو کچھ اس نے کمایا ہے پورا پورا دیا جائے گا، اور ان پر کوئی ظلم نہیں ہوگا۔”

پھر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر کرب کے آثار ظاہر ہونے لگے۔۔۔

فرمایا کہ میں شہدائےاُحد کی زیارت کرنا چاہتا ہوں۔
شہدائے احد کے پاس تشریف لے گئے اور قبورِشہداء پر کھڑے ہو کر فرمایا:

“تم پر سلامتی ہو اے احد کے شہیدو۔۔۔!
تم ہم سے پہلے جانے والے ہو اور ہم ان شاءالله تم سے آ ملیں گے، اور میں ان شاءالله تم سے ملنے والا ہوں۔”

اُحد سے واپسی پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زارو قطار رو دیے۔

وفات سے 3 روز قبل جبکہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ام المومنین حضرت میمونہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کے گھر تشریف فرما تھے،
ارشاد فرمایا کہ
“میری بیویوں کو جمع کرو۔”

تمام ازواج مطہرات جمع ہو گئیں۔
تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا:

“کیا تم سب مجھے اجازت دیتی ہو کہ بیماری کے دن میں عائشہ (رضی اللہ عنہا) کے ہاں گزار لوں؟”
سب نے کہا اے اللہ کے رسول آپ کو اجازت ہے۔

پھر اٹھنا چاہا لیکن اٹھہ نہ پائے تو
حضرت علی ابن ابی طالب اور حضرت فضل بن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما آگے بڑھے اور نبی علیہ الصلوة والسلام کو سہارے سے اٹھا کر سیدہ میمونہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کے حجرے سے
سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کے حجرے کیطرف لے جانے لگے۔

اس وقت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بیماری اور کمزوری کے حال میں پہلی بار دیکھا تو
گھبرا کر ایک دوسرے سے پوچھنے لگے
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کیا ہوا؟
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کیا
ہوا؟

چنانچہ صحابہ مسجد میں جمع ہونا شروع ہو گئے اور مسجد شریف میں ایک رش لگ ہوگیا۔

آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کا پسینہ شدت سے بہہ رہا تھا۔

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے اپنی زندگی میں کسی کا اتنا پسینہ بہتے نہیں دیکھا۔

اور فرماتی ہیں:
“میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے دست مبارک کو پکڑتی اور اسی کو چہرہ اقدس پر پھیرتی
کیونکہ نبی علیہ الصلوة والسلام کا ہاتھ میرے ہاتھ سے کہیں زیادہ محترم اور پاکیزہ تھا۔”

مزید فرماتی ہیں کہ حبیب خدا
علیہ الصلوات والتسلیم
سے بس یہی ورد سنائی دے رہا تھا کہ
“لا إله إلا الله،
بیشک موت کی بھی اپنی سختیاں ہیں۔”

اسی اثناء میں مسجد کے اندر آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کے بارے میں خوف کیوجہ سے لوگوں کا شور بڑھنے لگا۔

نبی علیہ السلام نے دریافت فرمایا:
“یہ کیسی آوازیں ہیں؟
عرض کیا گیا کہ اے اللہ کے رسول!
یہ لوگ آپ کی حالت سے خوف زدہ ہیں۔

ارشاد فرمایا کہ مجھے ان پاس لے چلو۔
پھر اٹھنے کا ارادہ فرمایا لیکن اٹھہ نہ سکے تو آپ علیہ الصلوة و السلام پر 7 مشکیزے پانی کے بہائے گئے،
تب کہیں جا کر کچھ افاقہ ہوا تو سہارے سے اٹھا کر ممبر پر لایا گیا۔

یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا آخری خطبہ تھا اور آپ علیہ السلام کے آخری کلمات تھے۔

فرمایا:
” اے لوگو۔۔۔!
شاید تمہیں میری موت کا خوف ہے؟”
سب نے کہا:
“جی ہاں اے اللہ کے رسول”

ارشاد فرمایا:
“اے لوگو۔۔!
تم سے میری ملاقات کی جگہ دنیا نہیں،
تم سے میری ملاقات کی جگہ حوض کوثر ہے، خدا کی قسم گویا کہ میں یہیں سے اسے (حوض کوثر کو) دیکھ رہا ہوں،

اے لوگو۔۔۔!
مجھے تم پر تنگدستی کا خوف نہیں
بلکہ مجھے تم پر دنیا (کی فراوانی) کا خوف ہے، کہ تم اس (کے معاملے) میں ایک دوسرے سے مقابلے میں لگ جاؤ
جیسا کہ تم سے پہلے (پچھلی امتوں) والے لگ گئے، اور یہ (دنیا) تمہیں بھی ہلاک کر دے جیسا کہ انہیں ہلاک کر دیا۔”

پھر مزید ارشاد فرمایا:
“اے لوگو۔۔!
نماز کے معاملے میں اللہ سے ڈرو،
اللہ سےڈرو۔
نماز کے معاملے میں اللہ سے ڈرو،
اللہ سے ڈرو۔”
(یعنی عہد کرو کہ نماز کی پابندی کرو گے، اور یہی بات بار بار دہراتے رہے۔)

پھر فرمایا:
“اے لوگو۔۔۔!
عورتوں کے معاملے میں اللہ سے ڈرو،
عورتوں کے معاملے میں اللہ سے ڈرو،
میں تمہیں عورتوں سے نیک سلوک کی وصیت کرتا ہوں۔”

مزید فرمایا:
“اے لوگو۔۔۔!
ایک بندے کو اللہ نے اختیار دیا کہ دنیا کو چن لے یا اسے چن لے جو اللہ کے پاس ہے، تو اس نے اسے پسند کیا جو اللہ کے پاس ہے”

اس جملے سے حضور صلی اللہ علیہ و سلم کا مقصد کوئی نہ سمجھا
حالانکہ انکی اپنی ذات مراد تھی۔

جبکہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ وہ تنہا شخص تھے
جو اس جملے کو سمجھے اور زارو قطار رونے لگے اور بلند آواز سے گریہ کرتے ہوئے اٹھہ کھڑے ہوئے اور نبی علیہ السلام کی بات قطع کر کے پکارنے لگے۔۔۔۔

“ہمارے باپ دادا آپ پر قربان،
ہماری مائیں آپ پر قربان،
ہمارے بچے آپ پر قربان،
ہمارے مال و دولت آپ پر قربان…..”
روتے جاتے ہیں اور یہی الفاظ کہتے جاتے ہیں۔

صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم (ناگواری سے) حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کیطرف دیکھنے لگے کہ
انہوں نے نبی علیہ السلام کی بات کیسے قطع کردی؟
اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا دفاع ان الفاظ میں فرمایا:

“اے لوگو۔۔۔!
ابوبکر کو چھوڑ دو کہ تم میں سے ایسا کوئی نہیں کہ جس نے ہمارے ساتھ کوئی بھلائی کی ہو اور ہم نے اس کا بدلہ نہ دے دیا ہو، سوائے ابوبکر کے کہ اس کا بدلہ میں نہیں دے سکا۔ اس کا بدلہ میں نے اللہ جل شانہ پر چھوڑ دیا
مسجد (نبوی) میں کھلنے والے تمام دروازے بند کر دیے جائیں،
سوائے ابوبکر کے دروازے کے کہ جو کبھی بند نہ ہوگا۔”

آخر میں اپنی وفات سے قبل مسلمانوں کے لیے آخری دعا کے طور پر ارشاد فرمایا:

“اللہ تمہیں ٹھکانہ دے،
تمہاری حفاظت کرے،
تمہاری مدد کرے،
تمہاری تائید کرے۔

اور آخری بات جو ممبر سے اترنے سے پہلے امت کو مخاطب کر کے ارشاد فرمائی
وہ یہ کہ:
“اے لوگو۔۔۔!
قیامت تک آنے والے میرے ہر ایک امتی کو میرا سلام پہنچا دینا۔”

پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دوبارہ سہارے سے اٹھا کر گھر لے جایا گیا۔
اسی اثناء میں حضرت عبدالرحمن بن
ابی بکر رضی اللہ عنہ خدمت اقدس میں حاضر ہوئے اور ان کے ہاتھ میں مسواک تھی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسواک کو دیکھنے لگے لیکن شدت مرض کیوجہ سے طلب نہ کر پائے۔

چنانچہ سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دیکھنے سے سمجھ گئیں اور انہوں نے حضرت عبدالرحمن رضی اللہ عنہ سے مسواک لے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے دہن مبارک میں رکھ دی،
لیکن حضور صلی اللہ علیہ و سلم اسے استعمال نہ کر پائے تو سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا نے حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مسواک لے کر اپنے منہ سے نرم کی اور پھر حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کو لوٹا دی تاکہ دہن مبارک اس سے تر رہے۔
فرماتی ہیں:
” آخری چیز جو نبی کریم علیہ الصلوة والسلام کے پیٹ میں گئی وہ میرا لعاب تھا، اور یہ اللہ تبارک و تعالٰی کا مجھ پر فضل ہی تھا کہ اس نے وصال سے قبل میرا اور نبی کریم علیہ السلام کا لعاب دہن یکجا کر دیا۔”

أم المؤمنين حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہا مزید ارشاد فرماتی ہیں:
“پھر آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی بیٹی فاطمہ تشریف لائیں اور آتے ہی رو پڑیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اٹھہ نہ سکے،
کیونکہ نبی کریم علیہ السلام کا معمول تھا کہ جب بھی فاطمہ رضی اللہ تعالٰی عنہا تشریف لاتیں حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم انکے ماتھے پر بوسہ دیتےتھے۔
حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا
اے فاطمہ!
“قریب آجاؤ۔۔۔”
پھر حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے ان کے کان میں کوئی بات کہی تو حضرت فاطمہ اور زیادہ رونے لگیں،
انہیں اس طرح روتا دیکھکر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا
اے فاطمہ! “قریب آؤ۔۔۔”
دوبارہ انکے کان میں کوئی بات ارشاد فرمائی تو وہ خوش ہونے لگیں۔

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد میں نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالی عنھا سے پوچھا تھا کہ
وہ کیا بات تھی ؟
جس پر روئیں اور پھر
خوشی اظہار کیا تھا؟
سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالی عنھا کہنے لگیں کہ
پہلی بار (جب میں قریب ہوئی) تو فرمایا:
“فاطمہ! میں آج رات (اس دنیاسے) کوچ کرنے والا ہوں۔
جس پر میں رو دی۔۔۔۔”
جب انہوں نے مجھے بےتحاشا روتے دیکھا تو فرمانے لگے:
“فاطمہ! میرے اہلِ خانہ میں سب سے پہلے تم مجھ سے آ ملو گی۔۔۔”
جس پر میں خوش ہوگئی۔۔۔

سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالی عنھا فرماتی ہیں:
پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے سب کو گھر سے باھر جانے کا حکم دیکر مجھے فرمایا:
“عائشہ! میرے قریب آجاؤ۔۔۔”

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زوجۂ مطہرہ کے سینے پر ٹیک لگائی اور ہاتھ آسمان کیطرف بلند کر کے فرمانے لگے:

مجھے وہ اعلیٰ و عمدہ رفاقت پسند ہے۔ (میں الله کی، انبیاء، صدیقین، شہداء اور صالحین کی رفاقت کو اختیار کرتا ہوں۔)
صدیقہ عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا فرماتی ہیں:
“میں سمجھ گئی کہ انہوں نے آخرت کو چن لیا ہے۔”

جبرئیل علیہ السلام خدمت اقدس میں حاضر ہو کر گویا ہوئے:

“یارسول الله! ملَکُ الموت دروازے پر کھڑے شرف باریابی چاہتے ہیں۔
آپ سے پہلے انہوں نے کسی سے اجازت نہیں مانگی۔”
آپ علیہ الصلوة والسلام نے فرمایا:
“جبریل !!
اسے آنے دو۔۔۔”

ملَکُ الموت نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کے گھر میں داخل ہوئے،
اور عرض کیا:
“السلام علیک یارسول الله!
مجھے اللہ نے آپ کی چاہت جاننے کیلئےبھیجا ہے کہ
آپ دنیا میں ہی رہنا چاہتے ہیں یا الله سبحانہ وتعالی کے پاس جانا پسند کرتے ہیں؟”
فرمایا:
“مجھے اعلی و عمدہ رفاقت پسند ہے، مجھے اعلی و عمدہ رفاقت پسند ہے۔”

ملَکُ الموت آنحضرت صلی الله علیہ وسلم کے سرہانے کھڑے ہوئے اور کہنے لگے:

“اے پاکیزہ روح۔۔۔!
اے محمد بن عبدالله کی روح۔۔۔!
الله کی رضا و خوشنودی کیطرف روانہ ہو۔۔۔!
راضی ہوجانے والے پروردگار کیطرف
جو غضبناک نہیں۔۔۔!”

سیدہ عائشہ رضی الله تعالی عنہا فرماتی ہیں:
پھر نبی کریم صلی الله علیہ وسلم
کا ہاتھ نیچے آن رہا،
اور سر مبارک میرے سینے پر بھاری ہونے لگا،
میں سمجھ گئی کہ آنحضرت صلی الله علیہ وسلم کا وصال ہو گیا۔۔۔

مجھے اور تو کچھ سمجھ نہیں آیا
سو میں اپنے حجرے سے نکلی اور مسجد کیطرف کا دروازہ کھول کر کہا۔۔

“رسول الله کا وصال ہوگیا۔۔۔!
رسول الله کا وصال ہوگیا۔۔۔!”

مسجد آہوں اور نالوں سے گونجنے لگی۔

ادھر علی کرم الله وجہہ جہاں کھڑے تھے وہیں بیٹھ گئے
پھر ہلنے کی طاقت تک نہ رہی۔

ادھر عثمان بن عفان رضی الله تعالی عنہ معصوم بچوں کی طرح ہاتھ ملنے لگے۔

اور سیدنا عمر رضی الله تعالی عنہ تلوار بلند کرکے کہنے لگے:
“خبردار! جو کسی نے کہا رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم وفات پا گئے ہیں، میں ایسے شخص کی گردن اڑا دوں گا۔۔۔!
میرے آقا تو الله تعالی سے ملاقات کرنے گئے ہیں جیسے موسی علیہ السلام اپنے رب سے ملاقات کوگئے تھے، وہ لوٹ آئیں گے، بہت جلد لوٹ آئیں گے۔۔۔۔!
اب جو وفات کی خبر اڑائے گا،
میں اسے قتل کرڈالوں گا۔۔۔”

اس موقع پر سب زیادہ ضبط، برداشت اور صبر کرنے والی شخصیت
سیدنا ابوبکر صدیق رضی الله تعالی عنہ کی تھی۔۔۔
آپ حجرۂ نبوی میں داخل ہوئے،
رحمت دوعالَم صلی الله علیہ وسلم کے سینۂ مبارک پر سر رکھہ کر رو دیئے۔۔۔
کہہ رہے تھے:
وآآآ خليلاه،
وآآآ صفياه،
وآآآ حبيباه،
وآآآ نبياه
(ہائے میرا پیارا دوست۔۔۔!
ہائے میرا مخلص ساتھی۔۔۔!
ہائے میرا محبوب۔۔۔!
ہائے میرا نبی۔۔۔!)

پھر آنحضرت صلی علیہ وسلم کے ماتھے پر بوسہ دیا اور کہا:
“یا رسول الله! آپ پاکیزہ جئے اور
پاکیزہ ہی دنیا سے رخصت ہوگئے۔”

سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ باہر آئے اور خطبہ دیا:
“جو شخص محمد صلی الله علیہ وسلم کی عبادت کرتا ہے سن رکھے
آنحضرت صلی الله علیہ وسلم کا وصال ہو گیا اور جو الله کی عبادت کرتا ہے وہ جان لے کہ الله تعالی شانہ کی ذات ھمیشہ زندگی والی ہے جسے موت نہیں۔”
سیدنا عمر رضی الله تعالی عنہ کے ہاتھ سے تلوار گر گئی۔۔۔

عمر رضی الله تعالی عنہ فرماتے ہیں:
پھر میں کوئی تنہائی کی جگہ تلاش کرنے لگا جہاں اکیلا بیٹھ کر روؤں۔۔۔

آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کی تدفین کر دی گئی۔۔۔

سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:
“تم نے کیسے گوارا کر لیا کہ نبی علیہ السلام کے چہرہ انور پر مٹی ڈالو۔۔۔؟”

پھر کہنے لگیں:
“يا أبتاه، أجاب ربا دعاه، يا أبتاه، جنة الفردوس مأواه، يا أبتاه، الى جبريل ننعاه.”

میرے پیارے بابا جان،
کہ اپنے رب کے بلاوے پر چل دیے،
میرے پیارے بابا جان،
کہ جنت الفردوس میں اپنے ٹھکانے کو پہنچ گئے،
میرے پیارے بابا جان،
کہ ہم جبریل کو ان کے آنے کی خبر دیتے ہیں۔)
(منقول)

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکتہ