آب حیات کی داستان حقیقت بن گئی

pure water

آب حیات کی داستان حقیقت بن گئی

آب حیات کی داستان حقیقت بن گئی

آپ نے آب حیات کے بارے میں تو بہت سنا ہوگا، اسے سن کر یقیناً آپ کے دل میں بھی خواہش جاگتی ہوگی کہ کاش آپ بھی اسے حاصل کرسکیں تاکہ آپ ہمیشہ جوان رہ سکیں۔ اس موضوع پر آپ نے بہت سی کہانیاں اور فلمیں بھی دیکھی ہوں گی۔ اگر آپ بھی آب حیات کو حاصل کرنے کی خواہش رکھتے ہیں تو جان جائیے کہ آپ کی خواہش صرف 2 سال بعد حقیقت میں بدلنے والی ہے۔کینیڈا کی مک ماسٹر یونیورسٹی میں کی جانے والی تحقیق کے نتیجہ میں سائنسدان ایسی دوا بنانے میں تقریباً کامیاب ہوچکے ہیں جو ڈیمنشیا اور دیگر بڑھاپے کی بیماریوں کو ختم کر سکتی ہے۔یہ دوا 30 اقسام کے وٹامن اور معدنیات سے بنائی گئی ہے اور بہت جلد یہ فروخت کے لیے پیش کی جانے والی ہے۔ اسے ایک سپلیمنٹ کے طور پر استعمال کیا جاسکتا ہے۔
سائنسدان پرامید ہیں کہ یہ دوا اعصاب کو تباہ کردینے والی بیماریوں جیسے الزائمر اور پارکنسن کے بڑھنے کی رفتار کو کم کر سکتی ہیں۔سائنسدانوں نے اس دوا کا تجربہ چوہوں پر کیا۔ چوہے کے دماغ پر ایک سال کی عمر میں ویسے ہی اثرات مرتب ہوتے ہیں جیسے انسانی دماغ پر الزائمر کے اثرات ہوتے ہیں۔ اس دوا کو کئی ماہ تک چوہے کی خوراک میں شامل کر کے انہیں استعمال کروایا گیا اور سائنسدانوں کے مطابق اس کے اثرات حیرن کن تھے۔کچھ عرصے مزید استعمال تک اس دوا نے خلیوں کی تباہی کے عمل کو مکمل طور پر ختم کردیا۔تحقیق میں شامل پروفیسر جینیفر لیمن کے مطابق یہ دوا کئی بیماریوں کو ختم کر کے انسانی زندگی کے معیار کو بہتر بنا سکتی ہے۔اس دوا کا اگلا مرحلہ اسے انسانوں پر استعمال کروا کر دیکھنا ہے جس سے علم ہوگا کہ انسانوں پر اس کے سائیڈ افیکٹس ہوتے ہیں یا نہیں جس کے بعد اسے مارکیٹ میں فروخت کے لیے پیش کردیا جائے گا۔